جس تن نوں لگدی او تن جانڈے
جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر18
وہ بہت مشکل سے یونیورسٹی پہنچی ۔۔۔۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ولید حسن ایسا بھی کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔ کیا اوقات رہ گئی تھی اس کی ۔۔۔۔۔ سوچ سوچ کے اس کا دماغ ماؤف ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔ "میں اتنی عام بھی نہیں ہوں ولید حسن ۔۔۔۔ جسے آپ شرط میں ہار جیت جائیں ۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ آپ کو اس بات کا جواب تو دینا ہو گا " اس نے سوچا اور انگلش ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل پڑی ۔۔۔۔ وہ سیدھی جمشید سر کے آفس کی طرف گئی ۔۔۔۔۔ ولید ادھر ہی تھا ۔۔۔۔ زجاجہ بغیر اجازت لئے اندر چلی گئی ۔۔۔۔ "کتنے میں جیتا ہے آپ نے مجھے " وہ بغیر کسی تمہید کے اس کے سامنے جا کر بولی ۔۔۔ "مطلب ۔۔۔۔ کس بارے میں بات کر رہی ہو ؟؟؟" ولید کچھ سمجھ نہ پایا "اپنے بارے میں بات کر رہی ہوں ولید صاحب۔۔۔۔۔ اس شرط کے بارے میں بات کر رہی ہوں جو آپ نے میری محبت پہ لگائی تھی ۔۔۔۔ یہی کہا تھا نا آپ نے نقاش سر سے کہ آپ نے کر دکھایا ۔۔۔۔ آپ جیت گئے " وہ بولتی چلی گئی "اوہ مائی گڈ نیس۔۔۔۔۔ تو آپ نے ہماری باتیں سن لیں ۔۔۔۔ " ولید کی سمجھ میں ساری بات آ گئی تھی "پہلی بات یوں چھپ کے کسی کی باتیں سننا بہت غیر اخلاقی حرکت ہے ۔۔۔۔ اور دوسری بات جب تک پوری بات کا علم نہ ہو تب تک نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے " وہ متانت سے بولا "بس کریں ولید صاحب ۔۔۔۔ آپ یہ سب کہہ کے اپنے کئے کو justify نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ " زجاجہ کی آواز تیز ہوئی تھی "زجی میری بات سنو ۔۔۔۔ میں صفائی دینے کا قائل نہیں ہوں ۔۔۔ نہ کبھی دیتا ہوں ۔۔۔۔ لیکن تم غلط فہمی کا شکار ہو ۔۔۔ اس لئے ضروری ہے کہ تمہیں کلئیر کروں ۔۔۔ جو تم نے سنا وہ ٹھیک تھا لیکن جو تم سمجھ رہی ہو وہ غلط ہے ۔۔۔" ولید بہت آرام سے بات کر رہا تھا " نقاش کو جب سے پتا چلا ہمارے بارے میں وہ کچھ insecurity کا شکار تھا ۔۔۔۔ اس کو لگتا تھا تم وقتی طور پہ جذباتی ہو رہی ہو ۔۔۔۔ وہ کہتا تھا کہ کوئی اس حد تک جا ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تمہارا جنوں بھی کم ہو جائے گا " وہ بولتے بولتے رکا ۔۔۔ زجاجہ نے پہلو بدلا ۔۔۔۔ اسے پتا نہیں کیوں لگ رہا تھا کہ ولید حسن سچ کہہ رہا ہے ۔۔۔۔۔ مگر دماغ ماننے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔ "میں نے کہا تھا ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔ زجاجہ اپنے جذبے میں سچی ہے ۔۔۔۔۔ نقاش کا خیال تھا میرا یقین ہار جائے گا۔۔۔۔۔۔ آج وہی بات ہو رہی تھی اور بس ۔۔۔۔" ولید نے بات ختم کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ "گڈ ولید حسن صاحب ۔۔۔۔ بہت خوب کہانی بنائی آپ نے ۔۔۔۔ لیکن میں یقین نہیں کر رہی اس پر ۔۔۔۔ جو میں اپنےکانوں سے سنا اسے کیسے جھٹلا دوں ۔۔۔" وہ اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی "میں نے کب کہا کہ جھٹلائیں ۔۔۔ آئی سیڈ آپ نے جو سنا ٹھیک سنا ۔۔۔۔ بس سمجھا غلط " ولید نے غصہ دباتے ہوۓ کہا " آپ کچھ بھی کہہ لیں اب ۔۔۔۔ آپ ہار گئے ولید حسن ..... آپ محبت بھی ہار گئے اور مجھے بھی ..... پتا ہے کیسے ؟؟؟" وہ بہت غصے میں تھی ۔۔۔۔ " میں نے آپ کی پسند کی ہر وہ چیز چھوڑ دی جو آپ کی محبت میں اپنائی تھی....آپ کی فیورٹ کولڈ ڈرنک ... رنگ ... خوشبو.... سب چھوڑ دیا...یعنی آپ سے محبت کرنا چھوڑ دیا میں نے .... یہی آپ کی ہار ہے" ... وہ اس کی طرف جھکتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی "اب جشن مناؤ اپنی شکست کا "..... وہ پیچھے مڑی اور تیز تیز قدموں سے نکل گئی.... کچھ دیکھ کر ولید حسن چونکا اور اس کے چہرے پہ خوبصورت سی مسکراہٹ آ گئ اور وہ زیر لب بولا " میں جیت گیا جان ولید حسن".... اور آنکھیں موند لیں ..... پتا ہے اس نے کیا دیکھا تھا .... اس کے شولڈر بیگ سے جھانکتی اپنی فیورٹ کولڈ ڈرنک .... وہاں سے نکل کر وہ کلاس میں چلی گئی ۔۔۔۔ بیا اور ثنا نے اس کے خراب موڈ کی وجہ پوچھی تو وہ ٹال گئی ۔۔۔۔۔ اس کا دماغ پھٹ رہا تھا ۔۔۔۔ کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کہاں کیا غلط ہے ۔۔۔ زجاجہ اپنا عبایہ سنبھالتی ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ اچانک ہی ثمر سامنے آ گیا ۔۔۔۔۔وہ کوئی دل پھینک قسم کا لڑکا نہیں تھا لیکن زجاجہ کو اس کا انداز پسند نہیں تھا جس طرح وہ اس کو دیکھتا یا بات کرنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔۔ "کہاں جا رہی ہیں آپ " ثمر نے زجاجہ کے سامنے آتے ہوئے پوچھا "میں بتانا ضروری نہیں سمجھتی "۔۔۔۔ زجاجہ روکھائ سے بولی ۔۔۔۔وہ بدتمیز نہیں تھی نہ بد اخلاق تھی ۔۔۔۔۔لیکن اس کو اپنے لئے ثمر کے جذبات بھی پسند نہیں تھے ۔۔۔اور وہ کسی بھی بات یا اپنے لہجے سے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ " لڑکی ۔۔۔۔ تمہیں غرور کس بات کا ھے ؟؟" ثمر اس کے جواب سے چڑ کر بولا زجاجہ گزرتے ہوئے رک گئی ۔۔۔۔۔ پیچھے مڑی اور بلکل ثمر کے مقابل آ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پورے اعتماد سے بولی " اپنے لڑکی ہونے کا "۔۔۔۔۔۔ اور تیز تیز قدموں سے وہاں سے نکل گئی ۔۔۔۔۔ پاس سے گزرتے ولید حسن نے بھی اس کا جواب سن لیا تھا اور وہ زیر لب مسکرا کر بولا " "i m proud of you zojaja sikandar"... ...اور سر جھٹک کر کلاس کی طرف مڑ گیا ۔۔۔۔۔ گھر آ کر بھی اس کا موڈ ٹھیک نہ ہوا ۔۔۔۔ وہ ماما کو ٹیسٹ کی تیاری کا کہہ کر کمرے میں بند ہو گئی ۔۔۔۔۔ وہ رونا چاہتی تھی ۔۔۔ بہت سا ۔۔۔ دل کہتا ولید ٹھیک کہہ رہا تھا ۔۔۔۔ دماغ کہتا جو وہ سمجھ رہی ہے وہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔ "ہماری بیٹی مصروف ہے " بابا کمرے میں داخل ہوئے ۔۔۔ "بابا آپ ۔۔۔۔۔ مجھے بلوا لیا ہوتا " وہ ایک دم سیدھی ہو کے بیٹھی "میں نے سوچا آج تم سے سنوں کہ کیا یاد کیا ۔۔۔ جیسے بچپن میں سنتا تھا " سکندر علی اس کو بہت پیار سے دیکھتے ہوۓ بولے ۔۔۔۔ زجاجہ کی آنکھ نم ہو گئی ۔۔۔۔ اس نے بابا کی گود میں سر رکھ لیا ۔۔۔ لوگ عموما ماں کی گود میں سر رکھتے ہیں اور ہر پریشانی بھول جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن زجاجہ کی بچپن سے یہی عادت تھی ۔۔۔۔ وہ بابا کی گود میں سر رکھ کے لیٹ جایا کرتی ۔۔۔ اور ڈھیر ساری باتیں کرتی ۔۔۔ ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ باتیں کرنا شروع ہو گئی ۔۔۔۔ سکول کی ، ٹیچرز کی ، یونیورسٹی کی ۔۔۔۔ بےمقصد باتیں ۔۔۔۔ اور سکندر علی سنتے رہے ۔۔۔۔ مسز سکندر بھی ادھر ہی آ گئیں ۔۔۔۔ جب ماما بابا اس کے کمرے سے گئے تو وہ نیند کی وادی کی سیر کو نکل چکی تھی ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ثنا کے بارے میں سب کو پتا تھا کہ رضا کو پسند کرتی ہے ۔۔۔۔ وہ رضا کی بات سے کبھی انکار نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔ جو اس نے کہہ دیا وہی ضروری ہو گیا ۔۔۔۔ وہ بہت لڑتے بھی تھے ۔۔۔ باتیں بھی سناتے ایک دوسرے کو اور ایک دوسرے کے لئے ضروری بھی تھے ۔۔۔۔ ثنا زیادہ جینز کرتا پہنتی ۔۔۔۔ بیا اور زجی کئی بار اسے کہہ چکی تھیں کہ کچھ اور بھی پہنا کرو مگر وہ سنی ان سنی کر دیتی ۔۔۔۔ زجاجہ نے اسے رضا کے حوالے سے بات کی کیا وہ نہیں چاہتا تمہیں سب نہ دیکھیں اس طرح ۔۔۔۔ زجاجہ نے جب سے ولید کی مان کر عبایہ لینا شروع کیا تھا وہ خود کو بہت محفوظ سمجھتی تھی ۔۔۔۔ بیا شروع سے ہی اں چیزوں کا خیال رکھتی تھی ۔۔۔۔ زجاجہ نے ثنا سے بات کی ۔۔۔ یار اس کو نہیں پسند میرا حجاب لینا ... ثنا نے حجاب نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ... "اینڈ یو نو وہ کہتا ہے اسے مجھ پر ٹرسٹ ہے" .... اس کے لہجے میں فخر تھا زجاجہ نے اس کو غور سے دیکھتے ہوئے لمبی سانس لی جیسے افسوس کر رہی ہو اس کی سوچ پر .... "حجاب بےاعتباری میں تو نہیں لیا جاتا ثنا .... یہ تو protection ہے ... بلکہ یہ بےاعتباری تک بات کو پہنچنے ہی نہیں دیتا" .... زجاجہ اسے نرمی سے سمجھا رہی تھی .... "میں تمہارے اور رضا کے تعلق پہ کوئی بات نہیں کر رہی .... صرف تمہیں اس کی ناجائز باتیں ماننے سے روک رہی ہوں" "تم ٹھیک کہہ رہی ہو سویٹ ہارٹ... لیکن کیا کیا جائے .... جب دل ہی اس کے پیچھے چل پڑے تو"..... ثنا شرارت سے ایک آنکھ دباتے ہوئے بولی "چلو کیفے چلتے ہیں" اس نے زجاجہ کی طرف ہاتھ بڑھایا ..... جو زجاجہ کو تھامنا ہی پڑا "او ہاں .... یاد آیا .... " ثنا نے تقریبا چلاتے ہوئے کہا "رضا کے موبائل کا کور لینا ہے یار .... شکر ہے یاد آ گیا "وہ اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بولی "کیوں ... موبائل کور کیا کرنا اس نے ".... زجاجہ نے اپنا سکارف درست کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا "زجی رضا نے نیا فون لیا ہے نا .... بہت قیمتی موبائل ہے یار.... کہہ رہا تھا protector لینا ہے .... کور میں سیف رہے گا" وہ کسی ماہر سیلز مین کی طرح کور کا فائدہ بتانے لگی "اور میں چاہتی ہوں رضا کی ہر چیز میں میری یاد ہو "وہ کسی خیال کے تحت مسکرائی تھی ثنا .... زجی نے اس کو پکارا " کیا اسے خود پر اعتبار نہیں ... جو وہ اس چیز کو بھی کور رکھنا چاہتا ہے جو ہر وقت اس کی ہاتھ میں رہتی ہے ".... ثنا نے ناسمجھی کی کیفیت سے زجاجہ کو دیکھا "اس کو خود پر اعتبار ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرسکتا ہے " زجاجہ نے بات جاری رکھی "مگر کور وہ اس لیے لے گا کیونکہ اس کا فون اس کے لیے "قیمتی " ہے .... ہر قیمتی چیز کور ہی اچھی لگتی ہے ثنا.... اور جانتی ہو ہمیں ڈھانپ کر کون رکھنا چاہتا ہے ..... جس کے لیے ہم قیمتی ہوتے ہیں.... چاہے وہ ہمارا رب ہو یا پھر کوئی انسان ".... زجاجہ نے مسکراتے ہوئے اپنی بات مکمل کی اور دور کھڑے ولید حسن کی طرف دیکھا جو اس سے بےنیاز کسی سے بات کر رہا تھا ....بد گمانی اور ناراضگی کے باوجود زجاجہ جانتی تھی کہ وہ اس دور کھڑے شخص کی لیے بہت قیمتی ہے .... وہ بات نہیں کر رہی تھی اس سے ۔۔۔۔۔ ولید نے ایک دو بار کوشش بھی کی ۔۔۔۔ مگر زجاجہ نے نظر انداز کر دیا ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے " نقاش اس کی کلاس میں آیا ۔۔۔۔۔ "جی سر ۔۔۔۔ بولیں " وہ کھڑی ہو گئی "اس دن آپ نے جو سنا وہ ویسا نہیں تھا جیسا آپ سمجھیں ۔۔۔۔ آپ جہاں چاہیں مجھ سے حلف لے سکتی ہیں ۔۔۔۔ ولید نے جو بھی بتایا وہی سچ ہے ۔۔۔۔ وہ آپ سے پہلے کی طرح بات نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔اس کے پیچھے جو بھی وجہ ہے وہ مجھے بھی پتا ہے اور آپ کو بھی ۔۔۔۔ اور وہ وجہ ولید کی اچھائی ثابت کرنے کے لئے کافی ہے ۔۔۔۔ باقی جیسے آپ بہتر سمجھیں " نقاش نے اپنی بات مکمل کی "جی سر ۔۔۔۔ مجھے غلط فہمی ہو گئی تھی " زجاجہ نے اعتراف کیا "ہو جاتا ہے کبھی کبھی ایسا بھی ۔۔۔۔۔۔ اور ہاں میں جو شروع میں جو آپ کے بارے میں سمجھا ۔۔۔۔اس کئی لئے سوری " "اٹس اوکے سر " زجاجہ نے جواب دیا ۔۔۔۔ نقاش "شکریہ " کہہ کر چلا گیا ۔۔۔۔۔ زجاجہ کچھ سوچ کر مسکرا دی ۔۔۔۔